Islamic knowledge

 ‏بخت نصر اپنے زمانے کا سفاک ترین اور ظالم بادشاہ تھا،اکثر مورخین کہتے ہیں کہ اس کے دماغ میں ہر لمحہ '' فتح کر لو‘‘ کا بھوت سمائے رہتا تھا۔ 

بخت نصر کا باپ ''نبو لاسر‘‘ بابل کا بادشاہ تھا۔ باپ نے صلاحیتوں کو بھانپتے ہوئے اسے مصر پر حملے کے لئے بھیجا۔ اس نے زمانہ ‏شہزادگی میں ہی مصر فتح کر ڈالا۔ اپنے باپ نبو لاسر کی وفات کے بعد یہ تخت نشیں ہوا۔ اس کے عہد سلطنت میں زیادہ تر دولت بابل کی قلعہ بندی اور تعمیرات پر خرچ ہوتی رہی، اس کا محل عجوبہ تھا۔اس کے تعمیر کردہ ''معلق باغات‘‘ دنیا کے سات قدیم عجائبات میں دوسرے نمبر پر شمار‏ہوتے ہیں ۔ ایک روایت کے مطابق اس نے یہ باغات اپنی ملکہ شاہ بانو(ایرانی) کی خوشی کی خاطر تعمیر کروائے تھے کیونکہ وہ ہر وقت اپنے ملک کی سرسبز و شاداب وادیوں کو یاد کرتی رہتی تھی،80 فٹ بلند یہ باغات معلق نہ تھے بلکہ ایسی جگہ لگائے گئے تھے جو درجہ بدرجہ بلند ہوتی‏ہوئی 350 فٹ تک پہنچ گئی تھی۔ ان باغات کے علاوہ بنو نصر کے زمانے میں بابل علم وادب اور تہذیب و تمدن کا بڑا مرکز بھی مانا جاتا تھا۔ 

یہ چھٹی صدی قبل مسیح کی بات ہے ،بنی اسر۔۔۔۔۔۔ائیل کی سرکشی ، نافرمانیاں اور مشرکانہ حرکتیں حد سے تجاوز کرچکی تھیں ۔ہر طرف ظلم وجبر ،‏فساد اور لوٹ مار کا بازار گرم تھا۔تو قوم عمالقہ کا یہ ظالم بادشاہ بابل سے ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ آندھی وطوفان کی مانند راستے میں آنے والی تمام حکومتوں کو پامال کرتا ہوا فلسطین پہنچ گیا ۔ تھوڑے ہی عرصے میں اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔چالیس ہزار سے زائد علماء کو قتل کر‏دیا یہاں تک کہ وہاں ایک عالم بھی زندہ نہ بچا۔ بخت نصر بنی اسرائیل کے اسی ہزار افراد کو قیدی بنا کر بابل لے گیا۔ بخت نصر کی فوج نے بیت المقدس میں عظیم الشان محلات کو کھنڈرات میں بدل دیا۔ ہیکل سلیمانی میں موجود وسیع وعریض نادر ادر نایاب کتب سے مزین کتب خانہ‏جلا کر راکھ کر دیا جن میں دوسرے مذاہب کے اصلی نسخے بھی شامل تھے ۔

قدرت کسی قوم پر اپنا قہر اور عذاب ایک دم سے نازل نہیں فرماتی بلکہ انہیں پہلے سدھرنے کے پورے پورے مواقع فراہم کرتی ہے ، پھر اسے جھنجوڑتی ہے اور سبق سکھاتی ہے ۔تفسیر فاران میں ہے کہ جب یہو۔۔۔۔دیوں نے فساد شر انگیزی‏اور اللہ کے احکامات سے روگردانی کی تو اللہ عزو جل نے کسی ایسے شخص کو ان پر مسلط کر دیا جس نے ان کو ہلاکت اور بربادی سے دو چار کر دیا۔پہلے جب انہوں نے فتنہ فساد کیا اور توریت کے احکامات کو رد کیا تو بخت نصر کو انکی طرف بھیجا جس نے انکو تہس نہس کر دیا۔

کچھ‏عرصہ بعد جب دوبارہ انہوں نے سر اٹھایا تو طیطوس رومی نے انکی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔پھر کچھ عرصہ بعد جب دوبارہ انہوں نے شرانگیزی شروع کی تو فارسی مجوسیوں نے ان کا حشر نشر کر دیا۔ اس طرح 515 قبل مسیح میں بیت المقدس دوبارہ آباد ہوا ۔بنی اسرائیل نے حضرت عزیر السلام کی‏موجودگی میں رو رو کر توبہ کی اور آ ئندہ خدا کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کا عہد کیا۔لیکن یہ زندگی بنی اسرائیل کو پھر راس نہ آئی ۔فارغ البالی نصیب ہوئی تو ایک دوسرے سے اختلاف اور جھگڑے پھر معمول کا مشغلہ بن‏گئے۔یہاں تک کہ رفتہ رفتہ بنی اسرائیل پھر اسی حالت کو پہنچ گئے جس میں ان پر بخت نصر کی شکل میں عذاب نازل ہوا تھا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Fun

Dental instruments information

Blood pressure during pregnancy information