سلطانی اذکار کی ترتیب

 سلطانی اذکار کی ترتیب جو حضرت سلطان باہو کے طفیل ہمیں میسر ہے۔۔,👇


نفس کا مقام صوفیاءکرام  نے دو طرح سے بیان کیا ھے کسی شخص میں اگر تکبر حسد غرور کا مادہ زیادہ ھے تو اسکا نفس دماغ یعنی سر میں ھے 

 اور جس شخص میں حرص شہوت اور نفسانی خواہشات کا غلبہ ھوتا ھے اسکا نفس زیر ناف ھوتا ھے 

 جب مرشد کریم کی توجہ اور اوراد و ازکار کی پابندی مرید کرتا ھے تو نفس کی صفات مغلوب ھونے لگتی ھے اورنفس ترقی کی جانب سفر کرنے لگتا ھے 

نفس کی اقسام 

 نفس امارہ جو سراسر گناھوں اور دنیا کی محبت کی جانب راغب رہتا ھے 

نفس لوامہ  یہ نفس ملامت کرنے والا ھے مگر یہ بھی نفس گناہ کرواتا ھے پھر ملامت کرتا ھے 

 نفس ملہمہ پر پہنچ کر نفس گناھوں سے نکل آتا ھے سالک کو اس نفس میں راحت میسر آتی ھے یہ نفس سراپا ذاتِ باری کی جانب متوجہ رہتا ھے 

 نفس مطمئنہ یہ نفس کامل اطمینان والا نفس ھے جس کے بارے میں سورہ فجر میں فرماتا ھے اللہ عزوجل 

 اے اطمینان پانے والے نفس آ داخل ھو جا میرے بندوں میں داخل ھو جا میری جنت میں اس حال میں کہ تیرا رب تجھ سے راضی اور تو اپنے رب سے راضی 

کچھ مشائخ نے نفس رحمانیہ کا بھی ذکر کیا ھے 

نفس کاملہ راضیہ اور مرضیہ بھی نفس مطمئنہ کے اعلی درجے ھیں 

دل کے اندر ایک لطیفہ ظاھر ھوتا ھے جسے لطیفہ قلب کہتے ھیں صوفیاء کرام قلب سے مراد انسان کی جامعیت سے لیتے ھیں 

 اسکا مقام بائیں پستان سے دو انگلی نیچے ھے مرشد کریم کے بتائے ھوئے ذکر ازکار اور مراقبہ کی مشق سے قلب صاف ھونے لگتا ھے اور آہستہ آہستہ قلب بالکل پاک و صاف ھو جاتا ھے یہاں قلب کو فنائے قلب میسر ھوتی ھے جس کی کیفیت یہ ھے کہ دل ماسوا اللہ سے فارغ ھو جاتا ھے 

مقام قلب کے بعد مقام روح ھے 

لطیفہ روح کا مقام دائیں پستان سے دو انگلی نیچے ھے 

 روح چونکہ ازل میں ذات باری تعالی کا دیدار کر چکی ھے مگر جب تنزل کر کے روح کو عالم اجساد میں بھیجا گیا اور روح کا تعلق ایک قوی ہیکل وجود سے ھوا تو نفس کی صفات روح کی صفات پر غالب آگئی اور روح پر ظلمت کے پردے پڑ گئے روح نفس کی غلام بن کر رہ گئی 

 روح کو نفس کی قید سے چھڑانا انتہائی ضروری امر ھے اسکے بغیر روح اپنے اصل کی جانب پوری طرح متوجہ نہیں ھو پاتی 

 روح کی نفس سے مجرد ھونے کی کیفیت یہ ھے کہ دائیں پستان کےنیچے روح کا مقام خالی ھو جاتا ھے اور وجود انتہائی لطیف ھو جاتا ھے اس کیفیت کو وہی سالک محسوس کر سکتا ھے جو مقام روح تک پہنچ چکا ھے 

 روح کے نفس سے آزاد ھونے کے بعد نہ روح جسم سے ملی نظر آتی ھےنہ جدا بس بیان سے باہر ھے 

لطیفہ سری اسکا مقام قلب سے دو انگلی اوپر سینے کی جانب ھے  بائیں جانب 

لطیفہ خفی دائیں /1/16/1جانب لطیفہ روح کے اوپر ھے 

لطیفہ اخفی اسکا مقام سینے کے درمیان ھے 

 جب سب لطائف یعنی چھ لطائف روشن و منور ھو جاتے ھے تو پھر سارے وجود پر ذکر کی مشق کی جاتی ھے جس کے سبب تمام وجود ذاکر ھو جاتا ھے اسے سلطان الازکار کہتے ھیں جس میں تمام وجود ھڈیاں گوشت پوست سر سے پاوُ ں تک ذکر کرتے ھیں 

 سر کے درمیان بھی لطیفہ ظاھر ھوتا ھے جسے کچھ مشائخ نے لطیفہ انا کہا ھے اور یہی سربھید کا مقام ھے الانسان سری و انا سر الانسان یعنی انسان میرا بھید ھے اور میں انسان کابھید ھوں ... ❤

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Fun

Dental instruments information

Blood pressure during pregnancy information