اخلاقیات
یہ تصوریر ہائی سیکنڈری سکول باگڑیاں کے باہر کی ہے۔۔ ایک طرف سے لڑکیاں آ رہی ہیں جب کہ دوسری طرف لڑکے جا رہے ہیں۔۔
رپورٹر نے یہ فوٹو بنائی اور آگے چل دیا۔۔۔ جب دفتر جا کر اس نے فوٹو غور سے دیکھی تو اسنے دیکھا کہ کوئئ بھی لڑکا کسی لڑکی کی طرف نہی دیکھ رہا بلکہ سب کے رخ دوسری طرف ہیں۔۔ اور لائن میں کھڑے ہیں۔۔
وہ اگلے دن واپس آیا اور لڑکوں سے پوچھنے لگ گیا کہ اس کی کیا وجہ ہے۔۔ اتنا ڈسپلن اور اتنی عزت یہ سب کیسے۔۔ اوور آل تو یہ چیز کہیں نظر نہیں آتی۔۔
تو لڑکوں نے جواب دیا کہ سر ہمارے سکول میں روزانہ پہلا ایک گھنٹے کا پیریڈ اخلاقیات پر ہوتا ہے۔۔۔۔ جس میں ہمیں اسلام کی روشنی میں معاشرے میں رہن سہن، لوگوں سے برتاؤ، لین دین غرض ایک ایک چیز پر تفصیلی لیکچر دیا جاتا ہے۔۔۔۔
پھر انگلش میتھ فزکس کیمسٹری بعد میں پڑھائی جاتی ہے۔۔ پہلے اخلاقیات سکھائی جاتی ہیں۔۔۔ اور یہ سب اسی کا نتیجہ ہے کہ بغیر کسی ٹیچر کے ڈنڈے کے ڈر خوف کے ہم خود ہی اس ڈسپلن کا مظاہرہ کر رہے ہیں جو آپ دیکھ رہے ہیں۔۔ اور یہ سب صرف یہاں تک نہیں ہے بلکہ الحمدللہ کھیل کے میدان میں ہوں یا گھر یا کسی دفتر میں کسی گاڑی میں غرض زندگی کے ہر پہلو میں ہم اسلامی نقطہ نظر سے اخلاقیات کا مظاہرہ کرتے ہیں۔۔
ثابت ہوا کہ فزکس کیمسٹری کے ساتھ ساتھ اخلاقیات بہت اہم چیز ہے جس کے لیے ہر سکول میں خصوصی لیکچرار ہونے چاہییں۔۔۔ جو بچپن سے بچوں کی ایسی بہترین زہن سازی کر دیں کہ وہ کل کو معاشرے کے لیے بہتری کا سبب بنیں۔۔ اور معاشرے میں سدھار آئے۔۔
تاکہ سکول سے نکل کر جب کوئی لڑکا ڈاکٹر ، وکیل ،جج، جرنیل، پولیس یا سیاستدان بنے، کمشنر بنے تو اس میں اخلاقیات کوٹ کوٹ کر بھری ہوں۔۔ اور جب اس کے ہاں کوئی فریادی جائے تو وہ اسے جانوروں کی طرح ٹریٹ کرنے کے بجائے انسانوں کی طرح ٹریٹ کرے۔۔ جب اسے حرام یا ٹی سی کی آفر کی جائے تو وہ ایک سیکنڈ سے پہلے اسے ریجیکٹ کر دے۔۔
کسی پولیس ایس ایچ او یا کسی بھی آفیسر کی میتھ فزکس یا کیمسٹری کمزور ہے تو اس سے معاشرے کو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن اگر اس کی اخلاقیات کمزور ہیں اور وہ درندہ صفت ہے خود ہی چرسی شرابی ہے، حرام خور ہے تو وہ معاشرے میں سدھار کیسے لا سکتا ہے۔۔۔
بلکہ وہ معاشرے کی تباہی کا سبب بنتا ہے۔۔۔
جب ایک جج اور وکیل پیسے لے کر نا انصافی پر مبنی فیصلہ سناتے ہیں تو معاشرے کی تباہی کا سبب بنتے ہیں، آخر وہ جج یا وکیل بھی تو سکول کالج یونیورسٹی سے پڑھ کر گئے ہیں۔ اب اگر انہوں نے یونیورسٹی میں زیادہ مارکس لے کر ٹاپ بھی کیا ہوا تو کیا فایدہ کہ وہ معاشرے کی تباہی کا سبب بن رہے ہیں۔۔ مارکس لے کر ٹاپر ہونے سے زیادہ اخلاقی طور پر ٹاپر ہونا بہت ضروری ہے۔۔ تاکہ سکول سے نکل کر کوئی لڑکا چرسی نا بنے، لڑکی کو بھگانے والا نا بنے، قاتل نا بنے، والدین کا نافرمان نا بنے، حرام خور نا بنے، بلکہ معاشرے میں بہتری لانے والا شہزادہ بنے۔۔
یہاں اخلاقیات کا یہ عالم ہے کہ جو جتنا بڑا آفیسر ہے اور اتنا بڑا چور ہے، یہاں تک کہ تین تین بار وزیراعظم رہنے والا دنیا کا مشہور چور ہے۔۔۔ باقی تو چھوڑیں قوم کے اخلاقیات کا یہ عالم ہے کہ دنیا کے مشہور چوروں کو قوم لیڈر مانتی پھر رہی ہے ان پر پھول پھینکتی ہے ان کے نعرے لگاتی ہے۔۔۔
ریاست مدینہ کوئی بازار سے ملنے والی چیز نہیں جو کوئی خرید کر قوم میں تقسیم کرے گا بلکہ ہمیں اپنے مردہ ضمیر کو جگاکر دل میں خوفِ خدا پیدا کرنا ہو گا۔ اچھے برے اور حرام حلال میں تمیز کرنا ہو گی ۔۔۔
یقین مانئیے خود ہی ریاست مدینہ نافذ ہوجائیگی ان شاءاللہ۔۔❤️❤️
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ۔۔
رپورٹر محسن نقوی باگڑیاں۔۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں