Islamic knowledge
💗ہزاروں میں بہتّر 72 تن تھے تسلیم و رضا والے
💗حقیقت میں خدا ان کا تھا اور یہ تھے خدا والے
💗دوائے درد عصیاں پنجتن کے در سے ملتی ہے
💗زمانے میں یہی مشہور ہیں دارالشفاء والے
💗کسی نے جب وطن پوچھا تو یوں حضرت حسینؓ نےفرمایا
💗مدینے والے کہلاتے تھے اب ہیں کربلا والے
💗حسینؓ ابن علی کی کیا مدد کرسکتا تھا کوئی
💗یہ خود مشکل کشا تھے اور تھے مشکل کشا والے
💗یہ نعرہ حُر کا تھا جس وقت فوج شام سے نکلا
💗دیکھوں یوں نکلتے ہیں جہنم سے خدا والے...💯
🌸"ہزاروں میں بہتر تن تھے تسلیم ورضا والے"🌸
👈یہ وہ وقت تھا جب نواسہء مصطفیﷺ
امام حسینؓ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے سب ساتھیوں کو خیمے میں بلایا، اور تمام چراغ بجھا دیئے ،
انہیں آئندہ کے تمام حالات اور راہِ حق کے رنج و شدتوں سے آگاہ کیا، اور فرمایا کہ :
میں حسینؓ ابنِ علی رضی اللہ تعالی عنھما آپ سب سے راضی ہوں اور مجھے کوئی گِلہ یا شکوہ نہیں ہوگا
جو بھی واپس پلٹنا چاہے جا سکتا ہے ،
اس اندھیرے میں کوئی ایک دوسرے کو نہیں دیکھ پا رہا تھا،
تاکہ جانے والے کو کوئی شرمندگی یا افسردگی تک کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔
جب امام حسینؓ علیہ السلام نے خطبہ تمام کیا ۔ تو اس اندھیرے میں صرف اسی کو چراغ روشن کرنے کا کہہ سکتے تھے جس پہ امام حسینؓ علیہ السلام کو بھروسہ تھا
کہ کوئی بھی چلا جائے مگر وہ "موجود "ہے ۔😢
ایسے میں امام حسینؓ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا 👈"عباس"👉 چراغ روشن کر دو!
یہاں یقینِ حسینؓ رضی اللہ تعالی عنہ
اور وفائے عباس رضی اللہ تعالی عنہ کا بہترین مظہر سامنے آتا ہے ۔ اور وہاں وفادار بھی ایسے کہ
جب عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے چراغ روشن کیے تو سب اپنی اپنی جگہ پر ہی موجود تھے ۔
🌿🌿اللّٰه اکبر کبیرا۔۔!🌿🌿
❤️❤️❤️صلی اللہ تعالی علی رسول اللہ
و سلام اللہ تعالی علیھم اجمعین۔۔!❤️❤️❤️
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں