Islamic knowledge
4 in 1
*اچھے قصّے کا انتخاب کیجیئے*
*وجہِ انتخاب بتایئے*
*نمبر 1*
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھ کر کبھی کبھار خوش طبعی اور مزاح فرمایا کرتے تھے۔
یوں بھی ہوتا کہ وہ مجلس مستقل ایک واقعہ اور قصّہ بن جایا کرتی۔
ایک مرتبہ نبی کریمؐ اپنے رفقاء سیدنا ابوبکر صدیق، عمر فاروق اور عثمانؓ کی معیت میں علیؓ کے گھر تشریف لے گئے۔
سیدنا علیؓ کی اہلیہ سیدہ فاطمہؓ نے شہد کا ایک پیالہ ان حضرات کی مہمان داری کی خاطر پیش کیا۔ شہد اور خوبصورت چمکدار پیالہ۔۔۔
اتفاق سے اس پیالے میں اک بال گر گیا۔
آپؐ نے وہ پیالہ خلفائے راشدین کے سامنے رکھا اور فرمایا: آپ میں سے ہر ایک اس پیالے کے متعلق اپنی رائے پیش کرے۔
*حضرت ابوبکر صدیقؓ* فرمانے لگے کہ
*"میرے نزدیک مومن کا دل اس پیالے کی طرح چمکدار ہے، اور اس کے دل میں ایمان شہد سے زیادہ شیریں ہے، لیکن اس ایمان کو موت تک باحفاظت لے جانا بال سے زیادہ باریک ہے۔"*
*حضرت عمرؓ* فرمانے لگے کہ
*"حکومت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور حکمرانی شہد سے زیادہ شیریں ہے لیکن حکومت میں عدل وانصاف کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔"*
*حضرت عثمانؓ* فرمانے لگے کہ
*"میرے نزدیک علم دین، اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے، اور علمِ دین سیکھنا شہد سے زیادہ میٹھا ہے لیکن اس پر عمل کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔"*
*حضرت علیؓ* نے فرمایا:
*"میرے نزدیک مہمان اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور اس کی مہمان نوازی شہد سے زیادہ شیریں ہے اور ان کو خوش کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔"*
*سیدہ فاطمہؓ* فرمانے لگیں کہ یارسول اللہ، اگر اجازت ہو تو میں بھی کچھ عرض کروں؟ آپؐ کے اجازت دینے پر فرمانے لگیں کہ
*"عورت کے حق میں حیا اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے۔ اور اس کے چہرے پر پردہ شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور غیر مرد کی اس پر نگاہ نہ پڑے یہ بال سے بھی زیادہ باریک ہے۔"*
کیا خوب ہی محفل تھی، جب خلفائے راشدین اپنی رائے کا اظہار کرچکے تو آپؐ کی طرف متوجہ ہوئے۔
ادھر *سرکار دو عالمؐ* کے لب مبارک ہلے تو زبانِ نبوت سے یہ الفاظ مبارک نکلے کہ
*"معرفت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور معرفت الٰہی کا حاصل ہونا اس شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اور معرفت الٰہی کے بعد اس پر عمل کرنا، بال سے زیادہ باریک ہے۔*
ادھر زمین پر یہ مبارک محفل سجی تھی ادھر رب ذوالجلال سے *جبریلؑ* بھی اجازت لے کر آپہنچے اور فرمانے لگے کہ *’’میرے نزدیک راہ خدا چمکدار سے زیادہ روشن ہے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور اپنا مال و اپنی جان قربان کرنا شہد سے زیادہ شیریں اور اس پر استقامت بال سے زیادہ باریک ہے۔‘‘*
جب زمین پر سجی اس محفل میں سب اپنی رائے کا اظہار کرچکے تو جبریل امین فرمانے لگے کہ یارسول! *اللہ تعالیٰ* بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں، فرمایا کہ
*"جنت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور جنت کی نعمتیں اس شہد سے زیادہ شیریں ہیں، لیکن جنت تک پہنچنے کے لیے پل صراط سے گزرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔"*
بلاشبہ یہ مجلس بھی مبارک اور ہر ایک کی گفتگو بھی مبارک، اس مجلس میں جہاں آقا نامدارؐ تھے وہیں صحابہ بھی تھے، آپ کی یہ مجلس اور اس میں ہونے والی گفتگو ہم سب کیلیے مشعل راہ ہے۔
(بکھرے موتی ص 938)
*نمبر 2*
★★★ *عالِم، دیوانہ اور عارِف* ★★★
حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ :
*"ایک مرتبہ میں دریا کے کنارے وضو کر رہا تھا کہ مجھے سامنے ایک خوبصورت عورت آتی دکھائی دی، میں اس سے بات کرنے کے قصد سے اسکی طرف چل دیا،
جب اس سے مخاطب ہوا تو اس نے کہا :
"میں نے تمہیں دور سے دیکھا تو خیال کیا کہ تم *”دیوانے“* ہو،
جب تم قریب آئے تو میں نے سمجھا کوئی *”عالِم“* ہے اور جب بالکل قریب آئے تو *”عارِف“* خیال کیا۔
مگر اب مجھے معلوم ہوا کہ تم ان تینوں میں سے کچھ بھی نہیں ہو۔
حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے اس سے وجہ دریافت کی تو اس نے کہا :
*”عالم“* نامحرم پر نگاہ نہیں ڈالتے، *”دیوانے“* وضو نہیں کرتے اور *”اہل معرفت“* اللہ کے سوا کسی کو نہیں دیکھتے۔
یہ کہہ کر وہ عورت غائب ہو گئی تو مجھے بخوبی سمجھ آگئی کہ یہ غیب سے میرے لئے ایک تنبیہہ ہے۔
📕 تذکرۃ الاولیاء
حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللہ علیہ
*نمبر 3*
🌷 *تاجدارِ پاکپتن حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللّہ* کا معمول تھا کہ آپ اپنے *پیر و مرشد حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللّٰہ* کو سردیوں میں فجر اور عشاء کے وقت گرم پانی سے وضو کرایا کرتے تھے۔
ایک رات خوب بارش ہو رہی تھی۔چونکہ گاؤں کا ماحول تھا، گلیوں میں کیچڑ تھا، روشنی کا کوئی مناسب انتظام نہ تھا اِس لیے آگ جلانے کے لیے آپ مناسب بندوبست نہ کر پائے۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر آپ سخت پریشان ہوئے۔
بہرحال آپ موسلا دھار بارش اور سخت سردی میں آگ جلانے کا انتظام کرنے حجرے سے نکلے۔
گھومتے گھماتے ایک گھر سے دھواں نکلتا دیکھا تو وہاں پہنچے۔ گھر میں ایک اکیلی عورت آگ جلائے بیٹھی تھی۔ آپ نے اُس سے آگ مانگی۔ عورت کا دل بے ایمان ہو گیا یعنی آپ پر فریفتہ ہو گئی۔
مگر آپ نے موقعے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے کرخت لہجے میں آگ کا تقاضہ کِیا۔ عورت نے بات بنتے نہ دیکھی تو پہلے تو آگ دینے سے انکار کِیا۔
مگر بعد اِس شرط پر دینے کی حامی بھری کہ آپ اپنی ایک آنکھ نکال کر اُسے دے دیں گے۔ بالاخر آپ نے مجبور ہو کر اس فتنہ گر عورت سے کہا۔ ’’میں آنکھ تو نہیں نکال سکتا مگر اسے پھوڑ سکتا ہوں۔ آپ آگ لے کر آئیں۔ بابا نے اتنا کہا اور آنکھ کے حلقے میں اپنی انگلیاں پیوست کر دیں۔
عورت ابھی تک اپنی شرارت کو ایک دلچسپ کھیل سمجھ رہی تھی مگر جب اس نے بابا فرید کی اضطراری حالت دیکھی تو خوفزدہ ہوکر کہنے لگی۔ ’’تم آنکھ رہنے دو۔ میں آگ لے کر آتی ہوں‘‘ عورت اپنی شرارت اور ضد سے باز آ گئی مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔
اسے پتا بھی نہ چل سکا کہ اس کشمکش میں بابا کی آنکھ بری طرح زخمی ہوگئی ہے پھر جب وہ آگ لے کر آئی تو اس کا شکریہ ادا کیا اور تیز رفتاری کے ساتھ خانقاہ کی جانب روانہ ہو گئے۔
حضرت قطب الدین بختیار کاکی رح نے بابا فرید کی طرف دیکھا تو آپ کی ایک آنکھ پر رومال بندھا ہوا تھا۔ ’’بابا! تمہاری آنکھ کو کیا ہوا؟‘‘
حضرت قطب رح نے وضو کرتے ہوئے اپنے مرید خاص سے دریافت کیا۔
’’کچھ نہیں شیخ محترم! آنکھ آئی ہے‘‘
حضرت بابا فرید رح نے صورت حال کو چھپاتے ہوئے عرض کیا۔ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رح مسکرائے اور پھر فرمایا ’’بابا! اگر آنکھ آئی ہے تو کھول دو۔
پیر و مرشد کا حکم سن کر حضرت بابا فرید نے زخمی آنکھ سے رومال ہٹا دیا۔ اس وقت آپ کو شدید حیرت ہوئی کہ آنکھ میں برائے نام بھی تکلیف باقی نہیں تھی۔
حضرت قطب رح کی اس کرامت کا آج بھی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے بابا فرید کی نسل کے جتنے لوگ بھی پاک و ہند میں موجود ہیں‘ ان کی دائیں آنکھ چھوٹی اور بائیں قدرے بڑی ہوتی ہے
الله اکبر🌷🌷
*نمبر 4*
*شاہ اسماعیل رحمۃ ﷲ تعالٰی علیہ۔*
کچھ لڑکیاں سب سے بے نیاز اپنی اداؤں سے سب کو گھائل کرتی مدرسہ عزیزیہ کے سامنے سے گزر رہی تھیں کہ حضرت شاہ محمد اسماعیل رحمۃ ﷲ تعالٰی علیہ کی نظر ان پر پڑ گئی۔
حضرت نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا یہ کون ہیں؟
ساتھیوں نے بتایا کہ یہ *طوائفیں* ہیں اور کسی ناچ رنگ کی محفل میں جا رہی ہیں۔
حضرت شاہ صاحب نے فرمایا.
اچھا یہ تو بتاؤ کہ یہ کس مزہب سے تعلق رکھتی ہیں؟
انہوں نے بتایا کہ یہ دینِ اسلام ہی کو بدنام کرنے والی ہیں.
اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہیں۔
شاہ صا حب نے جب یہ بات سنی تو فرمایا:
مان لیا کہ بدعمل اور بدکردار ہی سہی لیکن کلمہ گو ہونے کے ناطے ہوئیں تو ہم مسلمانوں کی بہنیں ہی.
لہٰذا ہمیں انہیں نصیحت کرنی چاہیے،
ممکن ہے گناہ سے باز آجائیں.
ساتھیوں نے کہا ان پر نصیحت کیا خاک اثر کرے گی؟
انہیں نصیحت کرنے والا تو الٹا خود بدنام ہو جائے گا
شاہ صاحب نے فرمایا: تو کیا ہوا؟
میں تو یہ فریضہ ادا کر کے رہوں گا خواہ کوئی کچھ سمجھے!
ساتھیوں نے عرض کیا۔
حضرت! آپ کا ان کے پاس جانا قرینِ مصلحت نہیں ہے.
آپ کو پتا ہے کہ شہر کے چاروں طرف آپ کے مذہبی مخالفین ہیں.
جو آپ کو بدنام کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے.
آپ نے فرمایا مجھے ذرہ بھر پروا نہیں.
میں انہیں ضرور نصیحت کرنے جاؤں گا!
اس عزمِ صمیم کے بعد آپ تبلیغِ حق و اصلاح کا عزمِ صادق لے کر گھر تشریف لائے. درویشانہ لباس زیب تن کیا اور تنِ تنہا نائیکہ کی حویلی کے دروازے پر پہنچ کر صدا لگائی.
*"ﷲ والیو! دروازہ کھولو اور فقیر کی صدا سنو!"*
آپ کی آواز سن کر چند لڑکیاں آئیں.
دروازہ کھولا تو دیکھا باہر درویش صورت بزرگ کھڑا ہے.
انہوں نے سمجھا کہ کوئی گداگر فقیر ہے سو چند روپے لا کر تھما دیے، لیکن انہوں نے اندر جانے پر اصرار کیا اور پھر اندر چلے گئے۔
شاہ صاحب نے دیکھا کہ چاروں طرف شمعیں اور قندیلین روشن ہیں.
طوائفیں طبلے اور ڈھولک کی تھاپ پر تھرک رہی ہیں.
ان کی پازیبوں اور گھنگھروؤں کی جھنکار نے عجیب سماں باندھ رکھا ہے.
جونہی نائیکہ کی نگاہ اس فقیر بے نوا پر پڑی اس پر ہیبت طاری ھو گئی.
وہ جانتی تھی کہ اس کے سامنے فقیرانہ لباس میں گداگر نہیں بلکہ شاہ اسماعیل کھڑے ہیں. جو حضرت شاہ ولی ﷲ کے پوتے اور شاہ عبدالعزیز، شاہ رفیع الدین، شاہ عبدالقادر کے بھتیجے ہیں.
نائیکہ تیزی سے اپنی نشست سے اٹھی اور احترام کے ساتھ ان کے سامنے جا کھڑی ہوئی. بڑے ادب سے عرض کیا:
حضرت آپ نے ہم سیاہ کاروں کے پاس آنے کی زحمت کیوں کی؟
آپ نے پیغام بھیج دیا ہوتا تو ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتیں!
آپ نے فرمایا: بڑی بی تم نے ساری زندگی لوگوں کو راگ و سرور سنایا ہے.
آج کچھ دیر ہم فقیروں کی صدا بھی سن لو!
جی سنائیے ہم مکمل توجہ کے ساتھ آپ کا بیان سنیں گی!
یہ کہہ کر اس نے تمام طوائفوں کو پازیبیں اتارنے اور طبلے ڈھولکیاں بند کر کے وعظ سننے کا حکم دے دیا.
وہ ہمہ تن گوش ہو کر بیٹھ گئیں۔
شاہ اسماعیل (رحمۃ ﷲ تعالٰی علیہ) نے حمائل شریف نکال کر سورۃ التين تلاوت فرمائی،
آپ کی تلاوت اس قدر وجد آفریں اور پُرسوز تھی کہ طوائفیں بے خود ہو گئیں.
اس کے بعد آپ نے آیاتِ مبارکہ کا دلنشین رواں ترجمہ بیان فرمایا،
یہ خطاب زبان کا کانوں سے خطاب نہ تھا بلکہ *یہ دل کا دلوں سے اور روح کا روحوں سے خطاب تھا.*
یہ خطاب دراصل اس الہامِ ربانی کا کرشمہ تھا جو شاہ صاحب جیسے مخلص دردمندوں اور امتِ مسلمہ کے حقیقی خیرخواہوں کے دلوں پر اترتا ہے!
جب طوائفوں نے شاہ صاحب کے دلنشین انداز میں سورت کی تشریح سنی تو ان پر لرزہ طاری ہو گیا.
روتے روتے اُن کی ہچکیاں بندھ گئیں۔
شاہ صاحب نے جب ان کی آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑیاں دیکھیں تو انہوں نے بیان کا رخ توبہ کی طرف موڑ دیا اور بتایا کہ جو کوئی گناہ کر بیٹھے،
پھر ﷲ سے اس کی معافی مانگ لے تو ﷲ بڑا رحیم ہے.
وہ معاف بھی کر دیتا ہے بلکہ اسے تو اپنے گنہگار اور سیاہ کار بندوں کی توبہ سے بے حد خوشی ہوتی ہے.
آپ نے توبہ کے اتنے فضائل بیان کیے کہ ان کی سسکیاں بندھ گئیں.
کسی ذریعے سے شہر والوں کو اس وعظ کی خبر ہو گئی.
وہ دوڑے دوڑے آئے اور مکانوں کی چھتوں دیواروں چوکوں اور گلیوں میں کھڑے ہو کر وعظ سننے لگے، تاحدِّ نگاہ لوگوں کے سر ہی سر نظر آنے لگے!
شاہ صاحب نے انہیں اٹھ کر وضو کرنے اور دو رکعت نوافل ادا کرنے کی ہدایت کی۔
راوی کہتا ہے کہ *جب وہ وضو کر کے قبلہ رخ کھڑی ہوئیں اور نماز کے دوران سجدوں میں گریں* تو *شاہ صاحب نے ایک طرف کھڑے ہو کر ﷲ کے سامنے ہاتھ پھیلا دیے اور عرض کیا:*
*اے مقلب القلوب!
اے مصرف الاحوال!
*میں تیرے حکم کی تعمیل میں اتنا کچھ ہی کر سکتا تھا یہ سجدوں میں پڑی ہیں، تو ان کے دلوں کو پاک کر دے، گناہوں کو معاف کردے، اور انہیں آبرو مند بنا دے، تو تیرے لیے کچھ مشکل نہیں، ورنہ تجھ پر کسی کا زور نہیں، میری فریاد تو یہ ہے کہ انہیں ہدایت عطا فرما انہیں نیک بندیوں میں شامل فرما!*
*ادھر شاہ صاحب کی دعا ختم ہوئی اور ادھر ان کی نماز.... وہ اس حال میں اٹھیں کہ دل پاک ہو چکے تھے!*
اب شاہ صاحب نے *عفت مآب زندگی کی برکات* اور *نکاح کی فضیلت* بیان کرنی شروع کی اور اس موضوع کو اس قدر خوش اُسلوبی سے بیان کیا کہ تمام طوائفیں گناہ کی زندگی پر کفِ افسوس کرنے لگیں اور نکاح پر راضی ہو گئیں.
چنانچہ *ان میں سے جوان عورتوں نے نکاح کرا لیے اور ادھیڑ والیوں نے گھروں میں بیٹھ کر محنت مزدوری سے گزارا شروع کر دیا۔*
کہتے ہیں کہ *ان میں سے سب سے زیادہ خوبصورت موتی نامی خاتون کو جب اس کے سابقہ جاننے والوں نے شریفانہ حالت اور سادہ لباس میں مجاہدین کے گھوڑوں کے لیے ہاتھ والی چکی پر دال پیستے دیکھا* تو پوچھا:
*وہ زندگی بہتر تھی جس میں تو ریشم و حریر کے ملبوسات میں شاندار لگتی اور تجھ پر سیم و زر نچھاور ہوتے تھے یا یہ زندگی بہتر ہے جس میں تیرے ہاتھوں پر چھالے پڑے ہوئے ہیں؟*
کہنے لگی *ﷲ کی قسم! مجھے گناہ کی زندگی میں کبھی اتنا لطف نہ آیا جتنا مجاہدین کے لیے چکی پر دال دلتے وقت ہاتھوں میں ابھرنے والے چھالوں میں کانٹے چبھو کر پانی نکالنے سے آتا ہے!*
(یہ قصہ تذکرہ الشہید سے ماخوذ ہے)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں