Allama Iqbal biography hidden life story
کوک سٹوڈیو کے لئے گانے لکھنے والے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ ان جیسا کوئی نہیں آیا اور شاید ہی دوبارہ کوئی آئے تو یہ غلط نہیں ہوگا چھوٹے سے پیارے سے محمد اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے خود تو پنجابی ہی کہلائیں گے لیکن ان کا تعلق ایک کشمیری گھرانے سے تھا ان کے بزرگوں نے ہجرت کی اور سیالکوٹ آگئے کشمیر میں مہاراجہ گلاب سنگھ اندرون ٹیکس لگا کر اپنے پیسے کھرے کر رہا تھا کیونکہ اس نے لمبی رقم دے کر انگریزوں نے کشمیر کی ریاست خریدی تھی علامہ اقبال کے دادا شیر محمد رفیق کشمیر میں چلتے ہوئے بازار میں اسی طرح محفوظ ہے اس کا نام شیخ محمد رفیق ہی پڑا ہے جو کہ میرا شہر ہے وہ بتاتے ہیں کہ علامہ کے دادا شیخ محمد رفیق تھے اور وہیں سے علامہ کے خاندان کی کہانی شروع ہوتی ہے ایک اخبار میں خواتین کا ایک آرٹیکل چھپا تھا جس میں فوٹو علامہ کی ہے اور اس میں علامہ اپنے ہندو رشتے داروں کے ساتھ کھڑے ہیں خشونت سنگھ کہتے ہیں کہ جموں کے کوئی بیوی راول صاحب تھے جنہوں نے کرپشن ثابت ہوئے فوٹو بھیجیں اور ساتھ بتایا کہ علامہ کی نسبت شہنشاہ اکبر کے وزیر خاص بیربل سے ملتا ہے ویلن کا تاج بیٹے اور ایک بیٹی تھی تیسرے بیٹے کا نام کا یہ حال تھا جو علامہ اقبال کے دادا تھے کرنا یا ان کے بیٹے کا نام حضرت بلال جو مسلمان ہو گئے اور اپنا نام محمد رکھ دیا یہ علامہ اقبال کے والد تھے حکیم صاحب مزید لکھتے ہیں کہ سید حمید جو انڈیا میں سماجی کارکن ہیں اور علامہ کی کچھ نظموں کی انگریزی ترجمہ بھی کر چکی ہیں انہوں نے خصوصی صاحب کو بتایا کہ حضرت لعل ٹیکس کلکٹر تھے کشمیر میں وہ پیسوں کی خدمت کرتے پکڑے گئے تھے تب کشمیر کے گورنر نے دو آپشن حسین یا تو پھانسی چڑھ جاؤ یا اسلام قبول کرلو خان صاحب نے اقبال کے فیس کا بھی ذکر کیا ہے افسوس کہ نظر آتی ہے لیکن ان میں کچھ باتیں کرتے تھے ان کا ہم ابھی ذکر کریں گے مگر تھوڑی دیر بعد پہلے ذرا بات کرتے ہیں اس ساری کہانی کی کے علامہ سے ایک جنریشن پہلے مسلمان ہوئے تھے اگر ایسا ہی واقعہ ہے تو یہ کوئی بری بات نہیں کچھ پانے والی بات نہیں تھی بلکہ کنورٹ مسلم کی تو ہمارے معاشرے میں عام مسلمان سے زیادہ عزت ہوتی ہے وہ تو فخر سے بتاتے ہیں اگر ایسا ہو اور اگر ان کے والد میں کوئی خود قبول کی تھی تو مجبور اسلام قبول کیا تھا تو پھر اسلام سے محبت نہیں ہو سکتی کو اسلام سے نفرت ہونی چاہیے تھی بلکہ علاقہ چھوڑنے کے بعد واپس ہندو ہو جانا چاہیے تھا لگتا یہی ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی غلطی ضرور ہو رہی ہے ہو سکتا ہے کوئی اور محمد اقبال ہو جس کی کہانی علامہ اقبال کے ساتھ گڈمڈ ہو گئی ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بات کوئی اور ہو مگر اتنا تو ہے کہ علامہ اقبال کی وفات کے 78 سال بعد اچانک یہ جو کہانی نکل آئی ہے کہ زیادہ سین نہیں بنا رہی جب ہم علامہ کے خاندان کی بات کر رہے تھے تاکہ ساری بات کرنا ضروری تھا اب واپس آتے ہیں ان کے بچپن کی طرف سے چھ بہن بھائی تھے ان کے بڑے بھائی کا نام شیخ عطا محمد تھا اور ان کا اقبال کی زندگی پر بہت گہرا اثر رہا ان کی بات ہم تھوڑی دیر بعد کرتے ہیں جن میں کوئی علامہ نہیں ہوتا اقبال کا بچپن عام بچوں کی طرح کھیل کود میں گزرا حاضر جواب تھے بچوں کی طرح شرارتی بھی تھے کبوتر بازی اور شطرنج کا شوق تھا ان کی والدہ پیار سے ان کو بالی کہا کرتی تھی ویسے دوستوں میں ان کا ایک اور نام بھی مشہور تھا بابا اقبال کے والدین کے بے نمازی اور پرہیزگار تھے تو یہ صفات اقبال میں بھی دیکھنے کو ملیں اپنے والدین کی طرح اقبال میں بھی مذہبی رجحان نظر آتا تھا اقبال کے والد شیخ نور محمد بینک میں ملازمت کرتے تھے اور اس دور میں بینک کی ملازمت کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا کیونکہ لوگ کہتے تھے کہ اس کی کمائی میں سود شامل ہوتا ہے جیسے یہ سب اپنے بارے میں لکھتے ہیں کہ جب وہ بینک میں نوکری کرتے تھے تو ان کے والد ان کے گھر سے پانی نہیں پیتے تھے اور اسی طرح اقبال کی والدہ نے بھی اپنے بیٹے کو اس وجہ سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنے زیورات بیچ کر ایک بکری خریدی اور اقوال کو اس کا دودھ پلاتی رہی ہیں بچوں کو دینی تعلیم سے ہی آغاز کرایا جاتا تھا چھوٹے سے اقبال کے ساتھ بھی یہی ہوا ان کے والد نے بھی دینی تعلیم کے لئے مدرسہ داخل کروا دیا جہاں انہوں نے قرآن پاک پڑھا اور پھر بعد میں اس کا مشن سکول میں داخلہ لے لیا جہاں مولوی میر حسن عربی فارسی اور اردو لکھائی مولوی میر حسن سیالکوٹ کے سب سے اچھے الفاظ ہمیں سمجھے جاتے تھے اقبال بچپن سے ہی حاضر جوابہوگئے ماسٹر صاحب نے پوچھا اقبال تم جیسے کیوں آئے ہو اقبال نے بے ساختہ جواب دیا جی ہاں اقبال ہمیشہ دیر سے ہی آتا ہے اقبال کا مطلب ہوتا ہے بلند مرتبہ یہ خوش نصیبی تو اقبال دیر سےہی آتا ہے ویسے تو علامہ بہت سے کام کرتے تھے لیکن قدرت نے انہیں شاعر پیدا کیا تھا اور انہوں نے سکول سے ہی شعر کہنے شروع کر دیے تھے ان کی پہلی نظم ہمالہ سرعبدالقادر کے ادبی رسالہ مخزن میں شائع ہوئی یہ اس وقت مسلمانوں کا ریڈرز ڈائجسٹ تھا نہ اقبال نے پانچویں پوزیشن لی وظیفہ لیا مڈل میں پھر پوزیشن لے لی سیالکوٹ سے میٹرک کیا اور ایف اے کیا پھر جیسی لاہور آگئے بی اے پاس کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے فلسفے میں ماسٹر کیا اور عادت سے مجبور ہوکر پنجاب یونیورسٹی میں انہیں پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ کا تعلق میسر آیا جنہوں نے علامہ کی ذہنی صلاحیتوں کو اسٹیٹ کیا اور فیصل آباد لڑکا اقبال کی زندگی پر بہت گہرا اثر ہے ایم اے کرنے کے بعد اقبال اورینٹل کالج لاہور میں فلسفہ اور تاریخ پروفیسر مقرر ہوئے علامہ کی سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ وہ کسی بھی نئی چیز کو بہت جلدی سیکھ لیتے تھے یہ صلاحیت نہ تھی کہ تاریخ میں کم ہی لوگوں میں ملی ہوگی اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ جب وہ لندن پڑھنے کے تو وہیں پر پڑھانے بھی لگ گئے اقبال کے لیے یہ بالکل نہیں زبان تھی پوری زبان اصلی حالت پر سیکھ لینا کے آگے بڑھانے لگ جانا اسے آپ میری کال ہی کہہ سکتے ہیں یہ کام کرنے میں اقبال کو یونیورسٹی میں ریسرچ سکالر کی حیثیت داخلہ لیا پھر ایک مہینے والا نگران میں داخلہ لیا بیرسٹر مکمل کرنے سے پہلے ہی وہ جرمنی چلے گئے اور میونخ یونیورسٹی سے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری کر لیں چار ماہ میں جرمن زبان سیکھ کر پی ایچ ڈی کے لیے اچھے سے نکالا یہ چیز آج بھی زبردست کتاب مانا جاتا ہے اور کئی زبانوں میں ٹرانسلیٹ بھی ہو چکا ہے ملک سے واپس لندن آگئی تھیں کے امتحان مکمل کیے لندن میں رہتے ہوئے انہوں نے مختلف موضوعات پر لیکچروں کا سلسلہ بھی شروع کیا اسلامی تصوف یورپ کی تہذیب پر مسلمانوں کا اثر عقل اور اسلام اسلامی جمہوریت اور ایسے افراد جو اسلام کو نئے دور کے حساب سے دیکھتے ہیں تب ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ان لیکچرز میں سے ایک بھی ریکارڈ نہیں ہے جب لندن میں آل انڈیا مسلم لیگ کی برٹش کمیٹی کا افتتاح ہوا تو اقبال کو سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے استاد پروفیسر آرنلڈ پر گئے تو یونیورسٹی نے ڈاکٹر علامہ اقبال کو ان کی جگہ پروفیسر مقرر کر دیا شاید یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی گورے کی جگہ کسی بلوچ شخص کو اسی میں پروفیسر بنایا امتحان کا نتیجہ نکلا ظاہر ہے وہ زبردست طریقے سے کامیاب ہوئے اب ان کے پاس ڈبل ڈاکٹریٹ ہوگئے ایک جرمنی سے اور ایک لندن سے اس کے علاوہ عربی گرامر میں زبردست عبور رکھتے تھے اردو اور فارسی کے لہجے سے پڑھائی ختم ہوگئی اور وہ اپنے دوست واپس آگئے لاہور سے وکالت شروع کی وکالت کے کچھ دنوں بعد آنے والی سے فلسفے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے تاریخ کی پروفیسر شپ کی پیشکش ہوئی جس پر انہوں نے معذرت کرلی لیکن پنجاب حکومت کے اصرار پر گورنمنٹ کالج لاہور میں عارضی طور پر فلسفہ پڑھانا شروع کر دیا مگر وکالت بھی ساتھ ساتھ جاری رکھے یہ وہ دور تھا جس میں حکومت اچھے لوگوں کو منتخب کرتی تھی کہ آپ ٹیچر بن جائے تو بیڑہ ہی غرق ہو گیا ہے جب ڈاکٹر اقبال کی مصروفیت زیادہ بڑھی تو گورنمنٹ کالج چھوڑ دیا لیکن پورے ہندوستان کے تعلیمی اداروں کے ساتھ جڑے رہیں علی گڑھ لاہور ناگپور اور دلی نیورسٹی کا سامنا بھی رہا ہے جیسی لاہور کے لیے تاریخ مرتب کی پنجاب یونیورسٹی کے فیصلوں نے اورینٹل کالج کی لائبریری کے تین بچے تعلیم کے شعبے سے تقریبا ساری عمر چڑھ رہے انیس سو 22 میں انگریز حکومت کی طرف سے سر کا خطاب ملا تعلیمی کاموں کے ساتھ ساتھ لکھنے لکھانے کا سلسلہ بھی چلتا رہا ہے ایک ہزاروں میں پنجاب یونیورسٹی نے لیکچر کی خدمات کی وجہ سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری بھی دے دیں یعنی ٹریٹ ہوگی اور ہزار روپے کریم کی اشاعت ہوئی یہ دونوں کتاب آج بھی آئیڈیالوجی کی شاعری کی معراج مانی جاتی ہیں مسلم لیگ کا سالانہ جلسہ تھا الہ آباد میں ڈاکٹر اقبال کی صدارت کر رہے تھے اپنا پریزیڈنشل ایڈریس دیتے ہوئے اقبال نے کہا مسلم اور ہندو دو الگ قومیں ہیں جن کی تہذیب رسم و رواج اور سب کچھ دوسرے سے مختلف ہے اسی طرح اس میں انہوں نے پاکستان کا ویژن اس انداز میں پیش کیا کہ سمجھ آ گئے کہ ایک چلی ہندوستان کے مسلمانوں کو انگریزوں سے ڈیمانڈ کرنا ہے دوسری گول میز کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں محمد علینہ کرے دوسری طرف یہی مطالبہ مسلم لیگ کا سب سے پہلا مطالبہ تھا قائداعظم کے ساتھ سمجھنے کے لیے تاریخ میں تھوڑا پیچھے جانا پڑے گا انیس سو تیرہ میں قائداعظم مسلم لیگ اور کانگریس کے بیک وقت تھے کانگریس کے حلقے اس بات سے خوش تھے کہ قائداعظم مسلم لیگ سے ہیں تو وہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے آپس میں کام کر سکتے ہیں قائداعظم کے حصے میں پہلی کامیابی لکھنو پیکٹ کی شکل میں ملی جس کے باعث ان کو ہندو مسلم سفیر کا خطاب ملا تھا دراصل ہندو مسلم اتحاد کا معاہدہ تھا جو کانگریس اور مسلم لیگ نے سائن کیا تھا جس میں طے پایا گیا تھا کہ برصغیر میں برطانوی راج سے اپنے مطالبات منوانے کے لئے اور حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے آپس میں اختلافات بھلا کر ایک ساتھ کوشش کریں تو علامہ کا بھی ایسا ہی تھا کہ مل جل کر رہا جائے سب ایک دوسرے کی عزت کریں اور ایک دوسرے کا ساتھ ہیں انہوں نے بھارت نےعلامہ اقبال کا لکھا ہوا سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا تب سے آج تک ایک طرف سے ہندوستان کا آفیشل قومی ترانہ ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اقبال کا احساس ہوتا گیا کہ یہ اتحاد کی باتیں ایک دوسرے کی عزت کرنا اور بھائیوں کی طرح رہنا یہ خواب ہی رہے گا اس طرح ممکن نہیں ہے اقبال نے نے ایک اور ترانہ ملی لکھا ہے جس کا مہفوم وہی تھا لیکن اس کا آغاز ہوتا تھا چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا اقبال کو نظر آ رہا تھا کہ جیسے حالات اس وقت تک ہندوستان کے ہو رہے تھے کہ مساجد میں مرے ہوئے خنزیر پھینکے جا رہے تھے اور مندروں کے آگے گائے کے کٹے ہوئے سر لہذا اب اکٹھا نہیں رہا جاسکتا انہوں نے سمجھا کہ الگ ملک ہی واحد حل ہے اور وہ تقریبا اکیلے ہی الگ ملک حاصل کرنے کی جدوجہد میں لگے شاید وہ اکیلے پاکستان بنا بھی جاتے اگر انہیں گلے کا کینسر نہ ہو جاتا علامہ اقبال عمر میں قائداعظم سے چھوٹے تھے لیکن بیماری کی وجہ سے پہلے ہی دنیا سے چلے گئے ہمارے مسلم لیگ اور کانگریس دونوں نے قائداعظم کو اتنا تنگ کیا تو وہ تنگ آ کر لندن چلے گئے ہمارے لیڈر مسلمان تھے انہیں ٹائی پہننے والا انگریزی بولنے والا ایسا شخص جس کی بہن پردہ نہیں کرتی ہیں مسلمان ہی نہیں لگتا تھا کوئی شعبہ ایسا تو کوئی براؤن انگریز کہتا تھا اور انگریزی کی وجہ سے ان کی باتیں عوام تک سے کمنٹ بھی نہیں ہوتی تھی نتیجہ یہ ہوا کہ قائد نے سوچا کہ میں لندن جاکر سکون سے وکالت کرتا ہوں بہت پیسا کما لوں گا وہ بھارت میں بھی سب سے زیادہ پیسہ کمانے والے مسلمانوں تھے لندن میں تو آمدنی دس گنا ہو جاتی ہے وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر لندن نکل گئے تب علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لیےجن کو خاص علاقے کے لوگوں کے دلوں میں ڈال رہے تھے لیکن انہوں نے ساتھ ساتھ قائد اعظم کو خط لکھنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا جس میں کینسر علامات ظاہر ہوں گی علامہ کو سمجھا گیا کہ پاکستان بنانے کے لئے جتنا وقت ہے نہیں دینے کو تیار نہیں انہیں بہت بڑا لیڈر چاہیے تھا ان کی نظر میں ایسا ایک ہی بندہ تھا جو سب کچھ چھوڑ کر لندن جانا تھا اقبال کی وفات کے بعد منظر عام پر آنے سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے بہت اوپر ہو کر سوتے تھے جب انہیں پتہ چل گیا کہ ان کے پاس وقت کم ہے تو انہوں نے قائداعظم کو موٹیویٹ کرنا شروع کر دیا وہ خطوط میں قائد کو انہیں یاد کراتے کی صلاحیت کے ساتھ ان کی ذمہ داری کیا بنتی ہے کہ وہ کیسے اس کتے کی قسمت بدل سکتے ہیں ایک خط میں اقبال نے قائداعظم پر یقین کا اظہار ان الفاظ میں کیا ایسا آیا کہ علامہ کے الفاظ کا اتنا اثر ہوا کہ انہوں نے ساری کشتیاں جلائیں اور واپس آنا گئے اب وہ اپنی زندگی کا صرف ایک ہی مقصد بنا سکتے تھے کہ انہوں نے پاکستان حاصل کرنا ہے قائداعظم اور علامہ اقبال نے تحریک پاکستان میں اپنا کردار ادا کیا اور دونوں رہنما ایک دوسرے کے ساتھ اپنے تعلقات پر فخر کرتے رہے تھے کہتے ہیں کہ جو قومیں تاریخ کو تباہ کر دیتی ہیں تاریخ ان کو تباہ کر دیتی ہے شاید ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے جب سے ہوش سنبھالا علامہ اقبال کے بارے میں مفکرپاکستان شاعرمشرق گریٹ فارمولا سکالرز چنری اسلام کے سچے عاشق اور پتہ نہیں کون کون سے نام سنتے رہے پہلے تو ان کی شاعری سمجھ نہیں آتی تھی لیکن جب آنے لگیں تو خیال آتا ہے کہ کیا کمال کر گیا مگر ہمیں کبھی یہ وہ بھی بالکل ہماری طرح ہی غلطی کرتے تھے پریشان ہوتے تھے دل دے بیٹھے تھے اب ذرا چیک کرتے ہیں ان کی ذاتی زندگی کا اقبال کے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے ہمیں کبھی یہ نہیں بتایا جاتا کہ وہ کبوتر بازی اور شکار کا شوق رکھتے تھے انتہائی شرارتی تھے ہمیں تو اس ایک روداد علامہ اقبال نظر آتا ہے جو شاید زمین پر آیا ہی چھپا رکھا تھا اور ہمیشہ سنجیدہ رہتا تھا ہر وقت قوم کا سوچتا تھا کبھی کوئی غلطی نہیں کی نصاب پڑھ کر تو ایسا ہی لگتا ہے نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں ایسے شعر لکھنے والا کبھی بہترین رومنٹک نظمیں بھی لکھا تھا حسن و عشق چاند اور تارے عاشق ہر جائی جلوہ حسن اور بہت سی دوسری نظمیں شامل ہیں شاید علامہ کی رومنٹک نظموں کی انسپریشن تھی مختون جب وہ پی ایچ ڈی کرنے جرمنی گئے تو وہاں ان کی ملاقات اہم سے ہوئی اور ان کی محبت میں گرفتار ہو گئے یہ بات ہمیں تب پتہ چلیں جب ان کی وفات کے بعد ان کے لکھے ہوئے ایک خط منظر عام پر آئے لیکن ہم آج بھی ان واقعات پر بات نہیں کرتے ان کے خطوط کے چند ٹکڑے بی بی سی نے کچھ عرصہ پہلے ہی تھے براہ کرم اپنے اس دوست کو مت بھولئے جو آپ کو ہمیشہ اپنے دل میں رکھتا ہے اور جو آپ کو کبھی فراموش نہیں کرسکتا ہے دل میں قیام خوبصورت خواب سا لگتا ہے اور میں اس خواب کو دہرانا چاہتا ہوں کیا یہ ممکن ہے آپ خوب جانتے ہیں میں زیادہ لکھ لیا کہ میرے روپ میں کیا ہے میری بہت بڑی خواہش ہے کہ میں دوبارہ آپ سے بات کر سکوں اور آپ کو خود دیکھ سکوں لیکن میں نہیں جانتا کہ میں کیا کروں جو شخص آپ سے دوستی کر چکا ہوں اس کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ آپ کے بغیر جی سکے براہ کرم میں نے جو لکھا ہے اس لئے مجھے معاف فرمائے گا اس وقت علامہ اقبال نہ صرف شادی شدہ تھے بلکہ دو بچوں کے باپ بھی بن چکے تھے لیکن اٹھارہ برس کی عمر میں والدین کی پسند سے قریبی سے ہونے والی شادی سے وہ سخت ناخوش تھے میں نے والد صاحب کو خط لکھ دیا میری شادی کرنے کا کوئی حق نہیں تھا خصوصاً جب کہ میں نے پہلے ہی اس قسم کے کسی بندھن میں گرفتار ہونے سے انکار کر دیا تھا اس کی حفاظت کے لیے تیار ہوں لیکن اس کو ساتھ رکھ کر اپنی زندگی کو عذاب بنانے کے لیے بالکل تیار نہیں لیکن ایک انسان کی حیثیت سے مجھے بھی خوش رہنے کا حق حاصل ہے اگر سماجی قدر تم مجھے حق دینے سے انکار کرتے ہیں تو میں دونوں کا باغی ہوں اب صرف ایک ہی تدبیر ہے کہ میں ہمیشہ کے لئے اس وقت ملک چلا جاؤں گا پھر شراب میں پناہ لے لو جس سے خود کشی آسان ہو جاتی ہے یہ ہمارے سامنے کبھی نہیں آیا اصل میں ان کے بھائی کا فرض تھا نو ایف نائن وہ لکھتے ہیں میں کوئی ملازمت کرنا ہی نہیں چاہتا میرا منشا ہوئی ہے کہ جتنا جلد ممکن ہو اس ملک سے بھاگ جاؤ سب پاک کو معلوم ہے میرے اوپر اپنے بڑے بھائی کا اخلاقی فرض ہے جو مجھے روکے ہوئے ہے کچھ عرصے بعد جب میرے پاس پیسے جمع ہوجائیں گے تو میں یورپ کو اپنا گھر بناؤں گا یہ میرا قصور ہے اور میری تمنا ہے یہ سب جلد ہو ہمیں نظر آتا ہے کہ اقبال بھی مشکل بلیک میلنگ اتنی بڑی شکار تھے جس نے اچھے لوگ ہوتے ہیں ان کی بیوی سے خواب تھے جیسے ہم سب کے ہوتے ہیں ان کے خواہش بھی ویسے ہی ٹوٹے جیسے ہم سب کے ٹوٹتے ہیں اپنی فکر چھوڑ کر قوم کی فکر کرنا یہ وہی انسان کر سکتا ہے جبکہ بڑے شدید قسم کے خیالات سے گزرتا ہے ہمارے لوگوں میں مسئلہ یہ رہا ہے کہ وہ نئے نظریات خیالات اور انداز کو تسلیم نہیں کرتے اگر جناح کا پیشہ سوٹ پہنتا ہے ہے انگریزی بولتا ہے کھیلتا ہے یا کتے پالتا ہے تو وہ مسلمانوں کی بات کیسے کر سکتا ہے وہ پہلے خود داڑھی رکھے اردو سیکھیں فری سمجھ آتی ہے کہ وہ مسلمانوں کی بات کر رہا ہے بلکہ قائد اعظم کا ایک بڑا مزیدار واقع ہے ہوا کچھ یوں کہ ایک خاص فرقہ کچھ مولوی قائداعظم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ کو ووٹ نہیں دیں گے کیونکہ آپ شیعہ ہیں قائداعظم نے جواب دیا کہ گاندھی جی کو ووٹ دے وہ سنی ہے ہیں بس اقبال کے ساتھ بھی ایسا ہی رہا وہ اسلام کی بات کرتے تھے مگر روایتی مولوی نہیں تھے اس لیے مولویوں سے کبھی کمال کی بنی نہیں کفر کے فتوے بھی کرتے رہے جب کسی مولوی سے اقبال کی تعریف فیصلے تو بہت عجیب لگتا ہے علامہ کے بیٹے جسٹس جاوید اقبال لکھتے ہیں جب اقبال نے اسلامیہ کالج میں اتحاد پر اپنا پہلا تیسرا بڑا کی جانب سے فوری ردعمل سامنے آیا اور اقبال کو اپنی سرزمین نئے خیالات شامل کرنے پر کافر قرار دے دیا گیا مفتی ابو محمد دیدار نے ان کے کفر کا فتوی جاری کر دیا تو نے باقاعدہ اقبال کے شعر لکھنا شروع کر دیے ہیں لیڈیز فیشن کے ڈر سے حکومت نے اقبال ڈے کی چھٹی بھی منسوخ کر دی ہے مشکل سے پیدا ہوتے ہیں اور جب بھی ہو جاتے ہیں تو پہلے ہم ان کافر کہتے ہیں پھر ان کے جانے کے بعد اپنے فائدے کے لئے ان کا بیان اٹھا کر کھڑے ہو جاتے ہیں فٹ بالبہت فرقہ چکوال کہتے تھے کہ ہمارے علاقے میں سود پر ادھار بھی چلاتے ہیں اور سیاست بھی چینی معیشت اور سیاست دونوں پر مسلمانوں کا دور نہیں اس لیے یہ آزاد ملک بننا چاہیے قائداعظم مسلم لیگ سے تعلق رکھتے تھے ان کا خیال تھا کہ ہندوؤں کا وہ چپ کر جسے سب سے نیچ اور کمتر سمجھا جاتا ہے اور اسی طبقے کو مستقل طور پر نور بھی کیا گیا ہے ہم ان کی بہتری کے لیے کام کریں گے تو پھر سے ہمارے ووٹ بینک میں اضافہ ہوگا علامہ اقبال مسلمانوں کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے اور جب کہ قائد اعظم نے اس عمل کو منانے کی کوششیں کی تھیں جو کمزوروں کا خیال رکھے یہ دونوں زبردست صلاحیتوں کے مالک تھے اقبال کی فضیلت اور یقینا ایک سے زیادہ تھی انہوں نے اس وقت بھی ہمت نہیں ہاری تھی جب قائد سب کچھ چھوڑ کر لندن جا رہے تھے علامہ اقبال نے پاکستان کا ویژن دیا تھا اور وہ اکیلے ہی اسے بنانے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے لیکن جب دوسری جنگ عظیم کے بعد انگریز حکومت کمزور ہو گئی تھی تب اگر علامہ زندہ ہوتے تو یقینا پاکستان بنا سکتے تھے لیکن ان کی عمر کتنی تھی وہ جاتے جاتے قائد کو ذمہ داری سونپ گئے اور قائد کو اس حد تک موٹیویٹ بھی کر کے پھر کسی تیسرے شخص کی ضرورت نہ پڑے دونوں کی ذاتی زندگی بہت مشکل رہی اپنے لوگوں کی خاطر دونوں نے ہی اپنی زندگیوں کو خراب کیا اور ہم نے دونوں کی خرابیوں دونوں کی کمیوں کو بھی یاد کرنے کے بجائے انہیں عجیب سی مخلوق بنا دیا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آج ویسے لوگ بالکل ہی نظر آنا بند ہو گئے تاکہ ہمیں بھی پتہ چلے کہ ہم بھی ویسے بن سکتے ہیں
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں