ڈاکٹر امجد کا جنازہ تھا‘ ڈاکٹر امجد ایڈن ہائوسنگ سکیم کا مالک تھا‘ اس کے والد ڈپٹی کمشنر رہے تھے اور یہ آئی جی پنجاب سردار محمد چودھری کا داماد تھا‘ اللہ تعالیٰ نے اس پر دولت کی بارش کی اور یہ اس بارش میں بھیگتا بھیگتا کیچڑ میںجا گرا‘ اس نے سب سے پہلے ایڈن ہائوسنگ سکیم کے 13 ہزار ممبرز کے دس ارب روپے ہڑپ کیے اور پھر اس نے پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں نذر گوندل کے بھائی ظفر گوندل کے ساتھ مل کر ای او بی آئی کی رقم بھی اڑالی‘ ڈاکٹر امجد نے فرضی پلاٹ دے کر ظفر گوندل سے دو ارب روپے لیے تھے اور یہ دونوں بعدازاں یہ رقم آدھی آدھی کر کے نگل گئے‘ متاثرین نے احتجاج شروع کیا‘ افتخار محمد چودھری چیف جسٹس تھے‘ سوموٹو ہوا‘ عدالت میں پیشیاں شروع ہوئیں‘ لاہور کے ایک وکیل کےذریعے چیف جسٹس اور ملزم کے درمیان رابطہ ہوا اور یہ رابطہ بہت جلد رشتے داری میں بدل گیا‘ ڈاکٹر امجد کے صاحبزادے مرتضیٰ امجد اور افتخار محمد چودھری کی صاحبزادی افرا افتخارکی شادی ہو گئی اور یوں ایڈن ہائوسنگ سکیم اور ای او بی آئی کے کیسز کھوہ کھات...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں